ڈراؤ نا خواب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوفناک خواب، کا بوس۔ "دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراونا خواب دیکھتی ہے۔"      ( ١٩٥٥ء، منٹو، منٹو نوری نہ ناری، ١٥٦ )

اشتقاق

پراکرت سے ماخوذ صفت 'ڈراؤنا' کے ساتھ فارسی اسم 'خواب' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٥٥ء کو "منٹو نوری نہ ناری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوفناک خواب، کا بوس۔ "دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراونا خواب دیکھتی ہے۔"      ( ١٩٥٥ء، منٹو، منٹو نوری نہ ناری، ١٥٦ )

جنس: مذکر